سمندری محنت کشوں میں اموات کاعالمی ڈیٹا جاری، 449 سے زائد ماہی گیر جاں بحق

رپورٹ : محمد تابش ہیڈ ریسرچ ڈیسک لیبر نیوز

بین الاقوامی برادری رواں سال 2026 میں میری ٹائم لیبر کنونشن 2006  کی 20 ویں سالگرہ منا رہی ہے، جس کا مقصد سمندروں میں ملاحوں کے تحفظ اور باوقار روزگار کو یقینی بنانا ہے۔

اس سنگِ میل کے موقع پر سمندر میں ہونے والی اموات کے حوالے سے پہلا باضابطہ عالمی ڈیٹا جاری کیا گیا ہے، جو ملاحوں کو درپیش سنگین ماحولیاتی اور نفسیاتی خطرات کو بے نقاب کرتا ہے۔

شپنگ انڈسٹری دنیا کی لگ بھگ 90 فیصد تجارت کو سنبھالتی ہے اور اس شعبے میں تقریباً 20 لاکھ  ماہی گیر اپنے گھروں سے دور انتہائی کٹھن حالات میں کام کرتے ہیں

عالمی سطح پر جمع کیے گئے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 66 ممالک نے مجموعی طور پر 449 ملاحوں کی اموات رپورٹ کیں جن میں درج ذیل اہم حقائق سامنے آئےسب سے زیادہ اموات 245 کیسز اچانک علالت، بالخصوص دل کے دورے کے باعث ہوئیں

سمندر میں فوری طبی امداد کی عدم دستیابی اور ہسپتال منتقل کرنے میں تاخیر ان اموات کی بڑی وجہ بنی جہاز پر کام، کارگو ہینڈلنگ، دیکھ بھال اور پھسلنے یا گرنے کے باعث 86 ماہی گیر دورانِ ڈیوٹی ہلاک ہوئے

 سمندر میں لاپتہ ہو جانے  کے 36 کیسز اور خودکشی کے 26 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملاحوں میں تھکن ، شدید ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 98 فیصد سے زائد مرد شامل تھے، جو اس شعبے میں مردوں کی اکثریت کو ظاہر کرتا ہے

عہدوں کے لحاظ سے، نچلے درجے کے عملے  میں اموات کی شرح 44 فیصد رہی، اور ان میں افسران کے مقابلے حادثات اور خودکشی کا رجحان زیادہ دیکھا گیا۔ شعبہ جاتی طور پر آدھی اموات ڈیک ڈپارٹمنٹ کے عملے کی ہوئیں، جبکہ انجن روم کے عملے میں طبی وجوہات سے اموات زیادہ ریکارڈ کی گئیں

 حیران کن طور پرخودکشی کی سب سے زیادہ شرح کیٹرنگ کے عملے میں دیکھی گئی

عمر کے لحاظ سے 85 فیصد اموات 30 سال یا اس سے زائد عمر کے ملاحوں کی ہوئیں، تاہم حادثات کا شکار ہونے والوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی

جہازوں کی نوعیت کے لحاظ سے، 30 فیصد سے زائد اموات ‘بلک کیریئرز کچا مال لانے والے بڑے جہازوں پر ہوئیں، جبکہ 60 فیصد اموات کھلے سمندر اور 20 فیصد بندرگاہوں پر ہوئیں

اس عالمی ڈیٹا بیس کی تیاری میں اب بھی سنگین خامیاں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر 74 ممالک نے رابطہ کیا مگر صرف 66 نے ڈیٹا فراہم کیا۔ کئی ممالک نے جہازوں کی رجسٹریشن اور اموات کی وجوہات کی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں۔

سب سے بڑا چیلنج مختلف ممالک میں اموات کی رپورٹنگ کا الگ الگ معیار ہونا ہے۔ مثال کے طور پر، صرف 83 فیصد ممالک حادثاتی اموات، 76 فیصد طبی اموات اور محض 59 فیصد ممالک خودکشی کے واقعات کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بناتے ہیں۔

اس کے علاوہ، کئی ممالک صرف اسی موت کو ‘حادثاتی موت’ مانتے ہیں جو وقوعہ کے دن ہو، جبکہ کچھ ممالک ایک سال بعد تک ہونے والی موت کو بھی اس سے جوڑتے ہیں۔ ان تضادات کی وجہ سے اموات کی اصل تعداد تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔

ماہرین اور عالمی اداروں نے زور دیا ہے کہ ملاحوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی محض تکنیکی کام نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے، جس کے لیے عالمی رپورٹنگ کے نظام کو مزید شفاف اور سخت بنانا ہوگا۔