گرین معیشت کی منتقلی میں ورکرز کے حقوق کا تحفظ ناگزیر، ایف ای ایس کا قومی لیبر کانفرنس کا انعقاد
رپورٹ : سردار سلیم نمائندہ لیبر نیوز اسلام آباد
پاکستان میں کم کاربن اور ماحول دوست معیشت گرین اکانومی کی طرف منتقلی کے عمل کو سرمایہ دارانہ مفادات کے بجائے محنت کش مرکوز بنانے کا قوی مطالبہ سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ پانچویں قومی لیبر کانفرنس کے دوران ملک بھر کے پالیسی سازوں، مزدور تنظیموں کے نمائندوں، محققین اور ماحولیاتی ماہرین نے متفقہ طور پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات، باوقار روزگار، وسیع سماجی تحفظ اور جامع پالیسی سازی کے بغیر ادھورے اور نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
یہ اہم ترین اتفاقِ رائے فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ سالانہ کانفرنس میں ابھر کر سامنے آیا، جس کا موضوع “باوقار روزگار اور توانائی کی منصفانہ منتقلی تھا۔ کانفرنس میں ملک کی ابھرتی ہوئی ماحولیاتی اور توانائی کی پالیسیوں کے سماجی و اقتصادی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و افرادی قوت چوہدری سالک حسین نے سرکاری سطح پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ کینیڈا یا دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنے لیبر اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ملک گرین اور موسمیاتی طور پر لچکدار معیشت کی طرف قدم بڑھائے گا، حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ محنت کشوں کا روزگار محفوظ رہے اور ان کے حقوق سلب نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کامیاب توانائی کی منتقلی وہی ہے جو ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے معاش کا تحفظ کرے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے۔
ایف ای ایس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فیلکس کولبٹز نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بامعنی سماجی مکالمے، مضبوط تر لیبر قوانین اور صنفی بنیادوں پر ہمدردانہ پالیسیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ماحولیاتی اور توانائی کے شعبوں کی نئی پالیسیاں بناتے وقت مزدور تنظیموں اور محنت کشوں کو براہِ راست شامل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک منصفانہ معاشی تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
ایف ای ایس کی ریجنل کلائمیٹ کوآرڈینیٹر سدرہ سعید نے زمینی حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ موسمیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ روزگار کی سلامتی اور سماجی انصاف کو بیک وقت یقینی بنایا جا سکے
پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو بدر عالم نے پاکستان کے موجودہ معاشی منظرنامے میں منصفانہ منتقلیکا تصور پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں لاتے وقت معاشرے کے کمزور طبقات اور غیر رسمی محنت کشوں کو معاشی نقصانات سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کانفرنس کے دوسرے سیشن میں تین اہم تحقیقی مقالے پیش کیے گئے، جن میں غیر رسمی شعبے سے وابستہ خواتین محنت کشوں کے لیے موزوں سماجی تحفظ، توانائی کی منتقلی میں ٹریڈ یونینز کا کردار، اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات کے ورکرز اور عام صارفین پر اثرات کا احاطہ کیا گیا
شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بجلی اور توانائی کے شعبے کی حالیہ نجکاری اور اصلاحاتی پالیسیوں نے نہ صرف عام صارفین پر بوجھ بڑھایا ہے بلکہ محنت کشوں کے روزگار کو بھی غیر محفوظ کر دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دے کر، تکنیکی مہارتوں کے فروغ اور اجتماعی سودے بازی کو مستحکم کر کے ہی ان منفی اثرات کو زائل کیا جا سکتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کی لیبر موومنٹ، بشمول پاور سیکٹر کی یونینز، صنعتی ورکرز، گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور بڑی لیبر فیڈریشنز کے نمائندوں کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا مکالمہ ہوا۔
اس مشترکہ اعلامیے میں حکومت سے درج ذیل اہم مطالبات کیے گئے ملک میں مزدور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ان میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں لائی جائیں
سرکاری اداروں، خصوصاً بجلی اور توانائی کے اداروں کی نجکاری کی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کی جائے سوشل سیکیورٹی اور ہیلتھ کوریج کا دائرہ کار بڑھا کر غیر رسمی ورکرز تک پھیلایا جائے۔ ماحول دوست اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔
کانفرنس ایک اجتماعی دستخطی مطالبے کے ساتھ ختم ہوئی جس میں حکومت، آجروں اور عالمی ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے لیے ایک ایسا جامع ‘قومی فریم ورک’ تشکیل دیں جو ماحولیاتی پائیداری اور محنت کشوں کے معاشی حقوق کے درمیان کامل توازن برقرار رکھ سکے