عالمی سفارت کاری اور مقامی مزدور کی معاشی بدحالی

لیاقت علی ساہی

موجودہ عالمی منظرنامے میں جہاں جنگ، معاشی پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی عام آدمی کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں

 وہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بین الاقوامی امن و استحکام کی جانب ایک اہم، تاریخی اور انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے

 اس اہم سفارتی کامیابی سے نہ صرف خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، بلکہ اس کے دور رس اثرات عالمی معیشت اور خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔

اس عالمی کامیابی کے پسِ منظر میں پاکستان کا سفارتی کردار بھی نمایاں رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ جنگ اور تصادم کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی کھل کر حمایت کی ہے

اس نازک موڑ پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور عسکری قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ سفارتی کاوشیں بلاشبہ لائقِ تحسین ہیں، جن کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کا ایک مثبت اور امن پسند تشخص اجاگر ہوا ہے

 لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس عالمی امن اور گرتی ہوئی عالمی قیمتوں کا حقیقی فائدہ پاکستان کے اس غریب ترین طبقے تک پہنچایا جائے جو مہنگائی کے تند و تیز طوفان میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے یعنی پاکستان کا محنت کش اور مزدور طبقہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا یہ معاہدہ محض دو ممالک کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے

اس تاریخی امن کے بعد اب یہ قوی امید پیدا ہو گئی ہے کہ فلسطین، لبنان اور مقبوضہ کشمیر میں بھی معصوم اور نہتے شہریوں پر دہائیوں سے ہونے والے مظالم، جارحیت اور خونریزی کا سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوگا وہاں کے پسے ہوئے عوام کو ان کی امنگوں اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق انصاف فراہم کیا جانا چاہیے

عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس مثبت سفارتی ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں دیرینہ تنازعات کے مستقل حل، سچے انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا فعال اور عملی کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب تک دنیا کے تمام خطوں میں انصاف قائم نہیں ہوگا، پائیدار عالمی امن کا خواب ادھورا رہے گا

عالمی سطح پر تناؤ کم ہونے کے بعد حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا اقدام یقیناً ایک اچھا آغاز ہے

لیکن یہ ریلیف تاحال ناکافی ہے۔ اگر حکومت واقعی مہنگائی سے پسی ہوئی عوام اور مزدوروں کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے، تو اسے فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ‘پیٹرولیم لیوی’ کو ختم کرنا ہوگا۔

موجودہ لیوی کی وجہ سے عوام پر پٹرول کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ مالی بوجھ برقرار ہے، جس کا سب سے زیادہ اور براہِ راست اثر ہمارے دیہاڑی دار مزدوروں، کسانوں اور غریب متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے

پٹرول اور ڈیژل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے خورونوش کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جو بالآخر ایک غریب کی جیب پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ جب تک حکومت اس ٹیکس کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات نہیں کرے گی، پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو سکے گا۔

سماجی اور مزدور رہنماؤں کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا حالیہ اضافہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے تناسب سے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ سرکاری سطح پر مہنگائی کی شرح کے جو اعداد و شمار اور گراف پیش کیے جاتے ہیں، وہ زمینی حقائق اور بازار کے نرخوں سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے

حقیقت یہ ہے کہ عام مارکیٹ میں روزمرہ استعمال کی اشیاء، آٹا، دالیں، گھی، بجلی اور گیس کے بل، ادویات، بچوں کی تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے

بڑھتی ہوئی اس لہر نے عام آدمی خصوصاً محنت کش طبقے کی زندگی کو شدید مفلوج کر دیا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر مہنگائی کی حقیقی اور موجودہ شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری و نجی ملازمین کی تنخواہوں، کم از کم اجرتوں اور پنشن میں مناسب و منصفانہ اضافہ کرے۔

عالمی امن کی کامیابی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، لیکن ملکی سطح پر جب تک پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، ضروری اشیائے خورونوش اور یوٹیلیٹی بلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں لائی جاتی، اور مزدوروں کی اجرتوں کو مہنگائی کے متناسب نہیں بڑھایا جاتا، تب تک عام آدمی کی معاشی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں۔

حکومت کو اب عالمی صورتحال کے سازگار ہوتے ہی اپنی معاشی ترجیحات کا رخ سرمایہ داروں کے بجائے غریب عوام اور مزدوروں کی طرف موڑنا ہوگا۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور مزدور کو معاشی ریلیف دینا اب کسی رعایت کے طور پر نہیں، بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ ملک کا پہیہ چلانے والا محنت کش سکھ کا سانس لے سکے

———-

تعارف ، لیاقت ساہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ملک کے ممتاز سماجی و مزدور رہنما ہیں معاشی پالیسیوں میں تنخواہ دار طبقے، محنت کشوں اور کم آمدنی والے افراد کے حقوق اور مفادات کے تحفظ سمیت مزدور کو معاشی انصاف اور سماجی استحکام کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہتے ہیں