بھارت کے ٹیکسٹائل کارخانوں میں مزدوروں کی زندگی اجیرن

سورت ( لیبر نیوز ساوتھ ایشاء ڈیسک ) بھارتی صنعتی مرکز سورت میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی اور حبس نے ٹیکسٹائل ملز میں کام کرنے والے لاکھوں تارکینِ وطن مزدوروں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے

 اڑیسہ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو فیکٹریوں کے اندر 12 گھنٹے کی طویل شفٹوں کے دوران شدید گرمی، حبس اور 130 ڈیسیبل کے کان پھاڑ دینے والے شور کا سامنا کرنا پڑتا ہے

 فیکٹریوں میں ناقص وینٹیلیشن کی وجہ سے کارکنان کو چکر آنے، سر درد اور شدید تھکن کی شکایات عام ہیں. لیبر یونین کے مطابق تپش اور پانی کی کمی کے باعث امراض اور ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں

ان مزدوروں کے رہائشی حالات بھی انتہائی مخدوش ہیں، جہاں ایک چھوٹے سے ہال نما کمرے میں 10، 10 افراد قیام پذیر ہیں اور 100 سے زائد لوگوں کے لیے صرف دو بیت الخلا دستیاب ہیں

 رات کا درجۂ حرارت 30 ڈگری سے اوپر رہنے کی وجہ سے مزدور پرسکون نیند سے بھی محروم ہیں. اس کے باوجود، غربت اور اپنے آبائی علاقوں میں موسمیاتی تباہیوں سیلاب اور طوفان کی وجہ سے یہ مزدور 6 سے 8 ڈالر روزانہ کی معمولی اجرت پر کام جاری رکھنے پر مجبور ہیں