صنعتی ترقی کا خواب اور محنت کشوں کا استحصال

 

احمد زیب

——–

پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو ملک کے لیے نہ صرف سب سے زیادہ زرِ مبادلہ کماتا ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا واحد ذریعہ بھی ہے۔

 لیکن اس چمکتی ہوئی انڈسٹری کا ایک دوسرا اور تاریک رخ وہ محنت کش ہیں، جن کا پسینہ اس شعبے کو عروج بخشتا ہے مگر بدلے میں انہیں نوکریوں کا تحفظ ملتا ہے اور نہ ہی لیبر قوانین کے مطابق حقوق

حال ہی میں کراچی کی صنعتی پٹی میں قائم ایچ ایم ٹیکسٹائل میں مزدوروں کی اچانک اور غیر منصفانہ برطرفیوں نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے

انتظامیہ کے ان اقدامات نے نہ صرف سینکڑوں چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں بلکہ پورے صنعتی علاقے میں مزدوروں کے اندر شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے، جو کسی بھی وقت ایک بڑے احتجاجی طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

صنعتی امن کو لاحق اس خطرے اور مزدوروں کے معاشی قتل عام پر پاکستان کی سب سے بڑی لیبر تنظیموں میں سے ایک پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن نے باقاعدہ طور پر میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن نے محنت کشوں کے حقوق کی بحالی کے لیے انتظامیہ کے سامنے پانچ بنیادی اور کلیدی مطالبات رکھے ہیں، جن پر فوری عمل درآمد کا تقاضا کیا گیا ہے

حال ہی میں نوکریوں سے نکالے گئے تمام مزدوروں کے کیسز کا فوری اور شفاف طریقے سے دوبارہ جائزہ لیا جائے اور انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے انتظامیہ مزدوروں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر فوری طور پر باضابطہ مذاکرات کا عمل شروع کرے تاکہ ڈیڈ لاک ختم ہو سکے

فیکٹری کے اندر تمام فیصلے ملکی لیبر قوانین اور صنعتی تعلقات  کے مروجہ اصولوں کے مطابق کیے جائیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو زدوروں کو درپیش تنخواہوں کی کٹوتی، واجب الادا بقایا جات، طبی مراعات اور دیگر دیرینہ مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کیا جائے

یونین کے منتخب نمائندگان کے ساتھ ایک مستقل، مثبت اور تعمیری مکالمے کا فریم ورک قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی تنازعے کو افہام و تفہیم سے حل کر کے صنعتی امن کو برقرار رکھا جا سکے

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کسی تصادم یا فیکٹریوں کی تالہ بندی پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ اس کا ہمیشہ سے یہ پختہ مؤقف رہا ہے کہ مذاکرات، قانون کی بالادستی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مشکل سے مشکل مسئلے کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے

بطور فیڈریشن کے صدر پر امید ہیں کہ ایچ ایم ٹیکسٹائل کی اعلیٰ انتظامیہ معاملے کی سنگینی کو سمجھے گی، انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مزدوروں کے ان جائز اور قانونی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور متاثرہ کارکنوں اور ان کے معصوم خاندانوں کو درپیش فاقہ کشی کے حالات کا فوری سدِباب کرے گی

ہم لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی اس معاملے میں اپنا قانونی کردار ادا کریں۔ سرمایہ داروں کو اب یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہی دراصل کارخانے کی بقا اور حقیقی صنعتی ترقی کی واحد ضمانت ہے

تعارف: احمد زیب پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی صدر ہیں اور طویل عرصے سے مزدوروں کے حقوق اور صنعتی اصلاحات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں فیڈریشن ملک بھر کے محنت کشوں کی آواز بن کر ابھری ہے۔