ڈیجیٹل معیشت اور محنت کشوں کے حقوق

شمس الرحمن سواتی

—————————-

مستقبل کی معیشت کا دھارا جس تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف مڑ رہا ہے، اس نے روایتی روزگار کے ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اوبر، ان ڈرائیو، فوڈ پانڈا اور دیگر آن لائن ایپلی کیشنز کے ذریعے روزی کمانے والے ‘پلیٹ فارم ورکرز’ اب کسی بھی ملک کی افرادی قوت کا ایک بڑا اور ناگزیر حصہ بن چکے ہیں

لیکن ستم ظریفی یہ تھی کہ اربوں ڈالر کمانے والی اس ڈیجیٹل انڈسٹری کے محنت کش اب تک بنیادی مزدور حقوق، سماجی تحفظ اور قانونی چھتری سے محروم تھے۔

 اسی تناظر میں، جنیوا میں منعقدہ بین الاقوامی لیبر کانفرنس  کے 114ویں اجلاس میں منظور ہونے والا “ڈیسنٹ ورک اِن دی پلیٹ فارم اکانومی کنونشن نمبر 193 دنیا بھر کے کروڑوں پلیٹ فارم ورکرز کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی پیش رفت ثابت ہونے جا رہا ہے

اس کنونشن کا اصل مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ ان گمنام محنت کشوں کو وہی بنیادی حقوق، سماجی تحفظ اور محفوظ روزگار فراہم کرنا ہے جو روایتی شعبوں کے مزدوروں کا حق سمجھا جاتا ہے۔

اس عالمی معرکے میں پاکستان کے حوالے سے ایک انتہائی خوش آئند اور ڈرامائی موڑ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کا سہ فریقی وفد طویل بحث و مباحثے اور آپسی بات چیت کے بعد بالآخر ایک پیج پر آ گیا۔

 یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں تھی کہ پاکستان کے ورکرز، ایمپلائرز اور حکومتی نمائندوں نے مشترکہ طور پر اس کنونشن کے حق میں ووٹ دیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹنگ سے محض ایک روز قبل تک پاکستانی حکومت کی رائے اس کنونشن کے مروجہ مسودے کے خلاف تھی اور بیوروکریسی کے روایتی تحفظات آڑے آ رہے تھے

لیکن مزدور رہنماؤں کے مضبوط دلائل اور سہ فریقی مذاکرات نے کایا پلٹ دی اور پاکستان نے عالمی سطح پر محنت کشوں کے حق میں ووٹ دے کر ایک مثبت تاریخ رقم کر دی۔

کنونشن نمبر 193 کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ اس میں پہلی بار قانونی طور پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز کو بھی دیگر مزدوروں کی طرح تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ اب یہ کمپنیاں مزدوروں کو الگ تھلگ رکھ کر ان کا استحصال نہیں کر سکیں گی

اس کے علاوہ جبری مشقت، چائلڈ لیبر اور ہر قسم کے لسانی، مذہبی یا صنفی امتیاز کا خاتمہ اس کنونشن کا بنیادی جزو ہے تاکہ کام کی جگہ پر بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔

دستاویز میں ان دیہاڑی دار رائڈرز اور فری لانسرز کے لیے محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول، ہراسانی اور کام کے دوران ہر قسم کے تشدد سے تحفظ، منصفانہ اجرت، بروقت ادائیگی، سماجی تحفظ  اور کسی بھی تنازعے کی صورت میں اس کے مؤثر حل کو بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اب کوئی بھی ڈیجیٹل کمپنی مزدور کا معاوضہ اپنی مرضی سے مہینوں نہیں روک سکے گی

اس کنونشن کی ایک اور انتہائی اہم اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کمپنیوں کے ‘الگورتھمز’ اور خودکار فیصلہ سازی کے نظام  پر کڑی ضابطہ کاری عائد کی گئی ہے

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہ ڈیجیٹل کمپنیاں بغیر کسی انسانی مداخلت کے، صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر یا الگورتھم کی بنیاد پر کسی بھی ورکر کا اکاؤنٹ بلاک یا ڈی ایکٹیویٹ کر دیتی ہیں، جس سے غریب مزدور کا چولہا پل بھر میں بند ہو جاتا ہے۔

نئے کنونشن کے تحت اب کارکنوں کو ان فیصلوں کے بارے میں مکمل معلومات، شفافیت اور انسانی نگرانی کا حق حاصل ہوگا۔ اگر کسی کا اکاؤنٹ معطل یا ڈی ایکٹیویٹ کیا جاتا ہے، تو اس فیصلے پر انسانی نظرثانی کا ایک شفاف اور منصفانہ طریقہ کار فراہم کرنا کمپنی کی قانونی ذمہ داری ہوگی۔

مزید برآں، یہ کنونشن تارکینِ وطن اور مہاجر کارکنوں  کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی زور دیتا ہے، جو اکثر پردیس میں ان ڈیجیٹل کمپنیوں کے بدترین استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ورکرز کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اصول پر بھی زور دیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارم ورکرز کو کسی بھی صورت میں دیگر روایتی کارکنوں کے مقابلے میں کم تر حقوق یا کم سازگار سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ کنونشن دراصل اس امر کا عالمی اعتراف ہے کہ ڈیجیٹل معیشت میں کام کرنے والے کارکن بھی وہی وقار، تحفظ، انصاف اور حقوق رکھتے ہیں جو روایتی شعبوں کے محنت کشوں کو حاصل ہیں۔

 اب دنیا کو یہ ماننا ہوگا کہ گلیوں اور سڑکوں پر بائیک دوڑانے والا یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے راتیں جاگنے والا مزدور کوئی مشین نہیں بلکہ ایک انسان ہے، اور یہی اصول مستقبل کی دنیا میں سب کے لیے باوقار کام کی اصل بنیاد بنے گا

تعارف ، شمس الرحمن سواتی پاکستان کی معروف ٹریڈ یونین شخصیت اور نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر ہیں، جو ملک کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد محنت کشوں کے حقوق کی توانا آواز بن کر ابھرے ہیں ، فیکٹریوں اور کارخانوں کے مزدوروں کے معاشی تحفظ اور ان کی محنت کے منصفانہ صلے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں مہنگائی کے تناسب سے محنت کشوں کی کم از کم اجرت میں فوری اضافے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں، مزدوروں کے سلگتے مسائل اور ملکی معیشت پر ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وہ کراچی سے ایبٹ آباد تک ملک بھر کے مسلسل تنظیمی دورے کرتے ہیں